42560- السلام عليكم دار قوم مؤمنين! وإنا إن شاء الله بكم لاحقون، وددت أنا قد أرينا إخواننا! قالوا: أولسنا إخوانك؟ قال: بل أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد، قالوا: كيف تعرف من لم يأت بعد من أمتك؟ قال: أرأيت لو أن رجلا له خيل غر محجلة بين ظهري خيل دهم بهم ألا يعرف خيله؟ قالوا: بلى، قال: فإنهم يأتون يوم القيامة غرا محجلين من الوضوء، وأنا فرطهم على الحوض، ألا! ليذادن رجال عن حوضي كما يذاد البعير الضال، أناديهم: ألا هلم! ألا هلم! فيقال: إنهم قد بدلوا بعدك، فأقول: فسحقا! فسحقا! فسحقا."مالك والشافعي، حم، م "، ن - عن أبي هريرة".
42560: ۔۔۔ اے مومنوں کی قوم کے گھر تم پر سلام ہو اور ہم انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ لیں، لوگوں نے کہا : کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم میرے صحابہ (رض) ہو، ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے، لوگوں نے عرض کیا : آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی تک نہیں آئے ؟ آپ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کسی کے سفید پاؤں والے گھوڑے سیاہ گھوڑوں میں ہوں کیا وہ اپنے گھوڑوں کو پہچان لے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں۔
آپ نے فرمایا : تو وہ بھی قیامت کے روز اس حالت میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے اعضاء چمک رہے ہوں گے اور میں ان کے لیے حوض پر پہلے سے موجود ہوں گا، خبردار کچھ لوگ میرے حوض سے اس طرح ہٹا دیے جائیں گے جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ ہٹا دئیے جاتے ہیں۔ میں انھیں پکار پکار کر کہوں گا ادھر آؤ ادھر آؤ! کہا جائے گا کہ انھوں نے تمہارے بعد (دین کو بدعات کی وجہ سے) بدل دیا تھا، تو میں کہوں گا : انھیں دور کرو، انھیں دور ہی رہنے دو ، یہ دور رہیں ! مالک والشافعی، مسند احمد، مسلم، نسائی عن ابوہریرہ ۔
تشریح : اس حدیث میں جہاں آخری امت کے لیے فضیلت ہے وہاں یہ تنبیہ بھی ہے جو لوگ دین نبوی میں اپنے ایجاد کردہ اعمال شامل کرتے رہے وہ نبی کی شفاعت اور حوض سے محروم ہوں گے۔