4263 - عن علي في قوله تعالى: {أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ} قال: "خرج عزير نبي الله من مدينته وهو شاب فمر على قرية خربة وهي خاوية على عروشها فقال: {أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ} فأول ما خلق منه عيناه فجعل ينظر إلى عظامه ينضم بعضها إلى بعض، كسيت لحما ثم نفخ فيه الروح، فقيل له كم لبثت؟ قال لبثت يوما أو بعض يوم، قال: بل لبثت مائة عام فأتى مدينته وقد ترك جارا له إسكافا شابا، فجاء وهو شيخ كبير". "عبد بن حميد وابن أبي حاتم ك ق في البعث".
4263: او کالذی مر علی قریۃ ۔
ترجمہ : یا اس شخص کی مانند جو بستی پر گذرا۔ البقرہ : 259 ۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اللہ کے پیغمبر حضرت عزیر (علیہ السلام) اپنے شہر سے نکلے۔ آپ اس وقت نوجوان تھے۔ آپ کا گذر ایک بستی پر ہوا جو ویران و برباد ہوچکی تھی اور ان کے گھروں کی چھتیں نیچے پڑی تھیں۔ تو حضرت عزیر (علیہ السلام) نے ازراہ تعجب فرمایا۔
انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتہا فاماتہ اللہ ماتہ عام ثم بعثہ۔ البقرہ : 259 ۔
اللہ پاک اس کو کیسے زندہ فرمائے گا۔ پھر اللہ نے اس کو سو سال تک موت دی، پھر اس کو اٹھایا اور فرمایا : پہلے تو حضرت عزیر کی آنکھ پیدا فرمائیں اور وہ اپنی ہڈیوں کی طرف دیکھنے لگے کہ ایک دوسری کے ساتھ جڑ رہی ہیں پھر ان پر گوشت چڑھا پھر اس میں روح پھونکی گئی۔ پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) سے پوچھا گیا : تم کتنے عرصے تک یوں رہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے شہر چل کر تشریف لائے۔ آپ اپنے ایک پڑوسی کو نوجوان چھوڑ کر گئے تھے۔ اب آئے تو دیکھا کہ وہ بوڑھا ہوچکا ہے۔ (عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم، البعث للبیہقی)