42634- قال تعالى: إذا بلغ عبدي أربعين سنة عافيته من البلايا الثلاث: من الجنون والبرص والجذام، وإذا بلغ خمسين سنة حاسبته حسابا يسيرا، فإذا بلغ ستين سنة حببت إليه الإنابة، وإذا بلغ سبعين سنة أحبته الملائكة، وإذا بلغ ثمانين سنة كتبت حسناته وألقيت سيئاته، وإذا بلغ تسعين سنة، قالت الملائكة: أسير الله في أرضه! فغفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، ويشفع في أهله."الحكيم - عن عثمان".
42634 :۔۔۔ " اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرا بندہ جب چالیس سال کی عمر تک پہنچ جاتا ہے تو میں اسے تین طرح کے مصائب سے عافیت دے دیتا ہوں، جنون برص اور کوڑھ سے، اور پچاس سال کا ہوجاتا ہے تو اس سے آسان حساب لیتا ہوں، اور جب ساٹھ سال کی عمر کا ہوجاتا ہے تو انابت و رجوع کو اس کا محبوب (عمل) بنا دیتا ہوں، اور جب ستر سال کی عمر میں داخل ہوتا ہے تو فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اور جب اسی سال کا ہوتا ہے تو میں اس کی نیکیاں لکھ لیتا اور اس کی برائیاں ختم کردیتا ہوں، اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں (یہ) اللہ تعالیٰ کی زمین میں اس کا قیدہ ہے، پس اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور اس کے گھر والوں کے بارے میں اس شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ (الحکیم عن عثمان)
کلام : ۔۔۔ ضعیف الجامع 4043 ۔ المغیر 104"