4270 - عن أبي هريرة: "أنهم تذاكروا الصلاة الوسطى، فقال اختلفنا فيها كما اختلفتم، ونحن بفناء رسول الله صلى الله عليه وسلم، وفينا الرجل الصالح أبو هاشم بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس، فقال: أنا أعلم لكم ذلك فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان جريا عليه، فاستأذن فدخل عليه ثم خرج فأخبر: أنها صلاة العصر". "كر".
4270: لوگوں کے درمیان الصلاۃ الوسطی کا ذکر ہوا حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : جس طرح تمہارے درمیان اختلاف ہورہا ہے اسی طرح ہمارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے صحن میں اختلاف ہوا تھا۔ ہمارے درمیان ایک نیک شخص ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بھی تھے، وہ بولے : میں اس مسئلہ کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ پھر وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے۔ وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بےتکلف تھے۔ انھوں نے آپ سے اندر آنے کی اجازت لی اور اندر گئے پھر نکل کر ہمارے پاس آئے اور بتایا کہ اس سے نماز عصر مراد ہے۔ (رواہ ابن عساکر)