4273 - عن عطاء أنه جاء عائشة مع عبيد بن عمير، فقال عبيد: "أي أم المؤمنين، ما قول الله عز وجل {لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} قالت هو الرجل يقول: لا والله، وبلى والله، قال: فمتى الهجرة؟ قالت لا هجرة بعد الفتح، إنما كانت الهجرة قبل الفتح، حين يهاجر الرجل بدينه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأما حين كان الفتح فحيث ما شاء رجل عبد الله لا يضيع" "عب".
4273: عطاء (رح) سے مروی ہے کہ وہ عبید بن عمیر دونوں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عبید (رح) نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اللہ عزوجل کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے :
لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم۔
اللہ تمہاری بےارادہ قسموں میں تم سے مواخذہ نہیں فرمائے گا۔
حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : آدمی کہتا نہیں اللہ کی قسم، ہاں اللہ کی قسم۔
فائدہ : یعنی اپنی بات پکی کرنے کے لیے بغیر ارادے کے یونہی قسم کھالے اس پر پکڑ نہیں مثلا کسی کو دیکھے اور کہے اللہ کی قسم یہ تو زید ہے۔ لیکن وہ زید نہ ہو تو اس پر کچھ پکڑ نہیں۔
عبید بن عمیر نے عرض کیا : ہجرت کب تک ہے ؟ فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت (فرض) ختم ہوگئی۔ ہجرت صرف فتح مکہ سے قبل (فرض) تھی۔ جب آدمی اپنے دین کو لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہجرت کرکے آتا تھا۔ پس فتح مکہ کے بعد بندہ جہاں بھی اللہ کی عبادت کرے اسے کوئی نقصان نہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)