4279 - عن سعيد بن المسيب أن صهيبا أقبل مهاجرا نحو النبي صلى الله عليه وسلم، فتبعه نفر من قريش مشركون، فنزل فانتثل كنانته، فقال: "قد علمتم يا معشر قريش أني أرماكم رجلا بسهم، وأيم الله لا تصلون إلي حتى أرميكم بكل سهم في كنانتي، ثم أضربكم بسيفي ما بقي في يدي منه ثم شأنكم بعد ذلك، وإن شئتم دللتكم على مالي بمكة وتخلوا سبيلي قالوا نعم، فتعاهدوا على ذلك، فدلهم، فأنزل الله على رسوله القرآن: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ} حتى فرغ من الآية، فلما رأى النبي صلى الله عليه وسلم صهيبا قال: ربح البيع يا أبا يحيى، ربح البيع يا أبا يحيى، ربح البيع يا أبا يحيى، وقرأ عليه القرآن". "ابن سعد والحارث وابن المنذر وابن أبي حاتم حل كر".
4279: حضرت سعید بن المسیب (رح) (مشہور تابعی) سے منقول ہے کہ حضرت صہیب (رض) ہجرت کے لیے نکلے۔ ان کے پیچھے قریش کے کچھ مشرک لگ گئے۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم جانتے ہو میں تم میں سب سے زیادہ تیر انداز ہوں۔ اللہ کی قسم تم میرے قریب نہیں آسکتے جب تک میں اپنے ترکش کا آخری تیر تم پر نہ چلا دوں پھر میں تمہارے ساتھ تلوار سے لڑوں گا جب تک وہ میرے ہاتھ میں رہے گی۔ پھر تم جو چاہو کرنا۔ لیکن اگر تم چاہو تو میں مکہ میں اپنے مال کا پتہ تم کو دیتا ہوں تم میرا راستہ چھوڑ دو ۔ انھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ اس پر معاہدہ ہوگیا۔ اور آپ (رض) نے ان کو مال کا پتہ دیدیا۔ پھر اللہ نے اپنے رسول پر قرآن نازل فرمایا :
ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ الخ۔ البقرہ۔
اور لوگوں میں بعض وہ ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان خرید لیتے ہیں۔
جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صہیب (رض) کو دیکھا اے ابو یحییٰ تجارت کامیاب ہوگئی اے ابو یحییٰ ! تجارت کامیاب ہوگئی، اے ابو یحییٰ تجارت کامیاب ہوگئی، پھر آپ نے مذکورہ آیت پڑھ کر سنائی۔ ابن سعد، الحارث، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر۔