42787- إذا أراد الله بعبد خيرا بعث إليه قبل موته بعام ملكا يسدده ويوفقه حتى يموت على خير أحايينه، فيقول الناس:مات فلان على خير أحايينه، فإذا حضر ورأى ما أعد له جعل يتهوع نفسه من الحرص على أن يخرج فهناك أحب لقاء الله وأحب الله لقاءه. وإذا أراد الله بعبد شرا قيض له قبل موته بعام شيطانا يضله ويغويه حتى يموت على شر أحايينه، فيقول الناس: قد مات فلان على شر أحايينه، فإذا حضر ورأى ما أعد له جعل يتبلغ نفسه كراهة أن تخرج فهناك كره لقاء الله وكره الله لقاءه."ابن أبي الدنيا في ذكر الموت - عن عائشة".
٤٢٧٨٧۔۔۔ اللہ جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو موت سے ایک سال پہلے اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتے ہیں جو اس کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے نیکی کی طرف متوجہ کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی اچھی حالت پر موت ہوجاتی ہے، توہم لوگ کہتے ہیں فلاں اپنی اچھی حالت پر فوت ہوا اور جب اس پر جان کنی کا وقت ہوتا ہے تو جو کچھ اس کے لیے تیار ہوتا ہے اسے دیکھ کر اس کی روح حرص کی وجہ سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی ملاقات پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو کسی برائی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو موت سے ایک سال پہلے اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں جو اسے گمراہ کرتا ہے اور ورغلاتا ہے یہاں تک کہ کسی بری حالت پر اس کی موت ہوجاتی ہے تو لوگ کہتے ہیں فلاں بری حالت پر مرا، جب اس پر جان کنی کا عالم ہوتا ہے توا سے اپنے لیے تیار عذاب دکھائی دیتا ہے تو اس کی روح ناپسندیدگی کی وجہ سے ہچکچاتی ہے اس وقت وہ اللہ کی ملاقات ناپسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس کی ملاقات ناپسند کرتے ہیں۔ ابن ابی الدنیا فی ذکرالموت عن عائشہ۔