42837- مسند عمر عن إبراهيم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يكبر على الجنازة أربعا وخمسا وأكثر من ذلك، وكان الناس في ولاية أبي بكر حتى ولي عمر فرأى اختلافهم فجمع أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فقال: يا أصحاب محمد! لا تختلفوا يختلف من بعدكم فاجمعوا على شيء يأخذ به من بعدكم، فأجمع أصحاب محمد أن ينظروا إلى آخر جنازة كبر عليها النبي صلى الله عليه وسلم حين قبض فيأخذون به ويرفضون ما سواه، فنظروا إلى آخر جنازة كبر عليها النبي صلى الله عليه وسلم حين قبض أربع تكبيرات، فأخذوا بأربع وتركوا ما سواه."ابن خسرو".
٤٢٨٣٧۔۔ (مسندعمر) ابراہیم سے روایت ہے کہ نبی نماز جنازہ کی چار، پانچ اور اس سے زیادہ تکبیریں کہا کرتے تھے ابوبکر عنہ کے دور خلافت میں لوگوں کا یہی معمول رہا، جب عمر (رض) خلیفہ بنے اور آپ نے لوگوں کا اختلاف دیکھاتو آپ نے اصحاب محمد کو جمع کیا اور فرمایا اے اصحاب محمد ! آپ لوگ اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے بعد لوگ اختلاف میں پڑجائیں گے کسی ایسی بات پر اتفاق کرو، جسے تمہارے بعد کے لوگ اختیار کرلیں تو اصحاب محمد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آخری جنازہ جو آپ نے پڑھا جس کے بعد آپ کی وفات پاگئی یہ لوگ اسے اختیار کریں، اور اس کے علاوہ کو ترک کردیں چنانچہ انھوں نے غوروخوض کیا اور جس جنازہ پر آپ نے اپنی وفات کے وقت چار تکبیریں کہیں تھیں اسے اختیار کرلیا اور چار تکبیروں پر عمل کیا اور اس کے علاوہ کو ترک کردیا۔ ابن خسرو۔