42851- عن إبراهيم الهجري قال: رأيت ابن أبي أوفى، وكان من أصحاب الشجرة، وماتت ابنته فتبعها على نعل خلفها، فجعل النساء يرثين، فقال: لا ترثين فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الرثاء، ولتفض إحداكن من عبرتها ما شاءت! ثم كبر عليها أربعا، ثم قام بعد ذلك قدر ما بين التكبيرتين يدعو، وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصنع على الجنائز هكذا."ابن النجار".
٤٢٨٥١۔۔ ابراہیم الھجری سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفی کو دیکھا وہ درخت والے لوگوں میں سے تھے ان کی ایک بیٹی فوت ہوگئی تو آپ اس کے جنازہ کے پیچھے ایک خچر پر جارہے تھے عورتیں مرثیہ کہنے لگیں، آپ نے فرمایا مرثیہ نہ کہو کیونکہ رسول اللہ نے مرثیہ گوئی سے منع فرمایا ہے۔ ہاں) کوئی عورت جتنے چاہے آنسو بہاسکتی ہے پھر آپ نے چارتکبیریں کہیں پھر دوتکبیریں کے درمیانی مقدار وقفہ کرکے دعا کی اور فرمایا : رسول اللہ جنازوں میں اسی طرح کیا کرتے تھے۔ رواہ ابن النجار۔