42905- عن عمرو بن دينار قال: لما مات خالد بن الوليد اجتمع في بيت ميمونة نساء يبكين، فجاء عمر ومعه ابن عباس ومعه الدرة، فقال: يا عبد الله! ادخل على أم المؤمنين فأمرها فلتحتجب، وأخرجهن علي، فجعل يخرجهن عليه وهو يضربهن بالدرة، فسقط خمار امرأة منهن، فقالوا: يا أمير المؤمنين خمارها! فقال: دعوها، فلا حرمة لها، وكان يعجب من قوله: لا حرمة لها."عب".
٤٢٩٠٥۔۔ عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ فرمایا جب خالد بن ولید کا انتقال ہوا تو حضرت میمونہ (رض) کے گھر عورتیں جمع ہو کررونے لگیں اتنے میں حضرت عمر (رض) آگئے ان کے ساتھ حضرت ابن عباس بھی تھے ان کے پاس کوڑا تھا فرمایا عبداللہ ، جاؤ ام المومنین سے کہو کہ پردہ کرلیں، اور ان عورتوں کو میرے پاس لے آؤ، چنانچہ وہ باہر نکلنے لگیں اور آپ انھیں کوڑے سے مارنے لگے انمیں سے ایک عورت کی اوڑھنی گرگئی لوگوں نے کہا، امیرالمومنین اس کی اوڑھنی، فرمایا رہنے دو اس کی کوئی عزت نہیں آپ کی یہ بات پسند کی جاتی تھی کہ اس کی حرمت نہیں۔ رواہ عبدالرزاق۔
یہ وہ عورتیں تھیں جو اجرت پر نوحہ کرتی اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں کھڑے ہو کر بین کیا کرتی تھیں، حضرت میمونہ نے انھیں کافی روکا لیکن وہ باز نہ آئیں، حضرت عمر نے پہلے توتوجہ نہ دی کہ ماتم ہے لیکن جب ان کا شور بڑھا اور خواتین اطلاع بھی کردی تو آپ نے سزا کے طور پر ایسا کیا کہ پھر کوئی نوحہ کرنے والی ایسی حرکت نہ کرے اس کے علاوہ امیرالمومنین اور حاکم وقت کی حیثیت سے کسی جرم پر سزا کے طور پر کوئی سی سزا تجویز کرنا جائز ہے۔