42908- عن عبد الله بن عكرمة قال: عجبا لقول الناس إن عمر بن الخطاب نهى عن النوح! لقد بكى على خالد بن الوليد بمكة والمدينة نساء بني المغيرة سبعا يشققن الجيوب ويضربن الوجوه وأطعموا الطعام تلك الأيام حتى مضت ما ينهاهن عمر."ابن سعد".
٤٢٩٠٨۔۔ عبداللہ بن عکرمہ سے روایت ہے فرمایا لوگوں کی بات پر تعجب ہے حضرت عمر نے نوحہ کرنے سے منع فرمایا، جب کہ خالد بن ولید پر مکہ اور مدینہ میں بنی مغیرہ کی عورتیں سات دن روتی رہیں، انھوں نے گریبان چاق کیے، چہروں پر مارا اور لوگوں کو ان ایام میں کھانا کھلاتا یہاں تک کہ وہ دن گزر گئے حضرت عمر انھیں منع نہیں کرتے تھے۔ رواہ ابن سعد۔
حضرت خالد بن ولید کی وفات پر عورتوں کے رونے کے دو واقعے ہیں، ایک مرتبہ آپ نے درگزر فرمایا جیسا کہ سابقہ روایت میں ہے لیکن جب عورتوں کا معاملہ طول پکڑ گیا تو آپ نے سختی فرمائی، تو لوگوں نے دونوں کو یکجا کردیا۔