42911- عن سعيد بن المسيب قال: لما مات أبو بكر بكي عليه فقال عمر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الميت يعذب ببكاء الحي، فأبوا إلا أن يبكوا، فقال عمر لهشام بن الوليد: قم فأخرج النساء! فقالت عائشة: أخرجك، فقال عمر: ادخل فقد أذنت لك! فدخل، فقالت عائشة: أمخرجي أنت يا بني! فقال: أما لك؛ فقد أذنت لك، فجعل يخرجهن امرأة امرأة وهو يضربهن بالدرة حتى خرجت أم فروة وفرق بينهن."ابن راهويه وهو صحيح".
٤٢٩١١۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے فرمایا جب صدیق اکبر کا انتقال ہوا تو آپ رویا گیا تو حضرت عمر نے فرمایا رسول اللہ نے فرمایا میت کو زندہ شخص کے (اس پر) رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے لیکن وہ رونے سے باز نہ آئیں، تو حضرت عمر نے ہشام بن ولید سے فرمایا جاؤ اور عورتوں کو باہر نکالو حضرت عائشہ نے فرمایا میں تمہیں باہرنکال دوں گی ، حضرت عمرنے فرمایا، ہشام اندرجاؤ میں نے تمہیں اجازت دی ہے وہ اندر گئے تو حضرت عائشہ نے فرمایا، ہشام بیٹا کیا تم مجھے باہر نکالو گے انھوں نے عرض کیا جہاں تک آپ کا معاملہ ہے تو میں نے آپ کو اجازت دی ہے پھر وہ ایک ایک عورت کو باہر نکالنے لگے اور درے سے مارنے لگے یہاں تک کہ ام فروہ باہر نکلیں اور ہشام نے عورتوں کو منتشر کردیا۔ ابن راھویہ وھوصحیح۔