42930- عن ابن عمر قال: وجد الناس وهم صادرون من الحج امرأة مييتة بالبيداء يمرون عليها ولا يرفعون لها رأسها، حتى مر بها رجل من ليث يقال له "كليب" فألقى عليها ثوبا ثم استعان عليها من يدفنها، فدعا عمر ابنه فقال: هل مررت بهذه المرأة الميتة؟ فقال: لا، فقال عمر: لوحدثتني أنك مررت بها لنكلت بك! ثم قام عمر بين ظهراني الناس فتغيظ عليهم فيها وقال: لعل الله أن يدخل كليبا الجنة بفعله عليها؛ فبينما كليب يتوضأ عند المسجد جاءه أبو لؤلؤة قاتل عمر فبقر بطنه."ق".
٤٢٩٣٠۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا کہ لوگوں نے حج سے واپسی پر کھلے میدان میں ایک مردہ کو پایالوگ اس پر سے گزر رہے تھے لیکن اس کا سراٹھاکر نہیں دیکھتے یہاں تک کہ قبیلہ لیث کا ایک شخص گزراج سے کلیب کہا جاتا تھا اس نے اس پر کپڑاڈال دیا اور اس کی تدفین کے لیے مددطلب کی ، حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو بلایا اور فرمایا کیا تم اس مردہ عورت کے پاس سے گزرے تھے تو اس نے کہا نہیں، حضرت عمر نے فرمایا گرتم مجھ سے یوں کہتے کہ تم اس کے پاس سے گزرے تھے تو میں تمہیں سزا دیتا پھر حضرت عمر لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اس عورت کے بارے میں ان پر غصہ ہوئے اور فرمایا شاید اللہ تعالیٰ کلیب کو اس عورت کو کفنانے کی وجہ سے جنت میں داخل کردے ایک دفعہ کلیب مسجد کے پاس وضوکر رہے تھے ، ابولولو حضرت عمر کا قاتل آیا اور اس نے کلیب کا پیٹ پھاڑ دیا۔ رواہ البیہقی۔