42940- مسند أنس توفيت زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرجنا معه، فرأينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مهما شديد الحزن، فجعلنا لا نكلم، حتى انتهينا إلى القبر فإذا هو لم يفرغ من لحده، فقعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وقعدنا حوله، فحدث نفسه هنيهة وجعل ينظر إلى السماء، ثم فرغ من القبر، فنزل فيه فرأيته يزداد حزنا ثم إنه فرغ فخرج فرأيته سري عنه وتبسم، فقلنا: يا رسول الله! رأيناك مهما حزينا لم نستطع أن نكلمك ثم رأيناك سرى عنك فلم ذلك؟ قال: كنت أذكر ضيق القبر وغمه وضعف زينب مكان ذلك فشق علي فدعوت الله أن يخفف عنها ففعل، ولقد ضغطها ضغطة سمعها من بين الخافقين إلا الجن والإنس."طب".
٤٢٩٤٠۔۔ (مسندانس) رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت زینب کا انتقال ہوا، جب آپ گھرنکلے) ہم بھی آپ کے ساتھ ہولیے اور ہماری عادت تھی ہم لوگ جب بھی آپ کو زیادہ غم گین دیکھتے ہم کوئی بات نہ کرتے چلتے چلتے ہم لوگ قبر پر پہنچ گئے ابھی تک لحد تیار نہیں ہوئی تھی آپ بیٹھ گئے ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے آپ نرم نرم سانس لینے لگے پھر آسمان کی طرف نظردوڑائی اس کے بعد قبر کی کھدائی مکمل ہوگئی آپ قبر میں اترے میں نے دیکھا کہ آپ کا غم بڑھ گیا دفنانے سے فارغ ہونے کے بعد آپ باہر تشریف لائے میں نے دیکھا آپ کی وہ کیفیت نہ رہی بلکہ آپ مسکرا رہے تھے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ جب بھی آپ کو غم گین دیکھتے آپ سے بات نہیں کرسکتے، پھر ہم نے آپ کی یہ کیفیت نہیں دیکھی ایساکیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا مجھے اس جگہ قبر کی تنگی وتاری کی اور زینب کی ضعف حالی یاد آگئی تو مجھ پر گراں گزرا میں نے اللہ سے اس کے لیے تخفیف کی دعا کی تو اللہ دعاقبول کرلی، اور قبر نے اسے ایک دفعہ بھینچا جس کی آواز دونوں جانبوں کے تمام جانوروں نے انسانوں وجنوں کے علاوہ سنی۔ طبرانی فی الکبیر۔