4296 - عن علي قال: "لم يبعث الله له نبيا آدم فمن بعده إلا أخذ عليه العهد في محمد صلى الله عليه وسلم، لئن بعث وهو حي ليؤمنن به ولينصرنه ويأمره فيأخذ العهد على قومه ثم تلا: {وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ} الآية، إلى قوله: {قَالَ فَاشْهَدُوا} يقول فاشهدوا على أممكم بذلك {وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ} عليكم وعليهم {فَمَنْ تَوَلَّى} عنك يا محمد بعد هذا العهد من جميع الأمم {فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} هم العاصون في الكفر. "ابن جرير".
4296: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں اللہ نے جب بھی آدم (علیہ السلام) یا آپ کے بعد جس کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا اس سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ وعدہ ضرور لیا کہ اگر وہ تمہاری زندگی میں آگئے تو تم ان پر ایمان ضرور لاؤگے اور ضرور ان کی مدد کروگے۔ نیز اپنی قوم سے بھی یہی عہد لو۔ پھر آپ (رض) نے آل عمران کی یہ آیات تلاوت فرمائیں :
و اذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمۃ سے الفاسقون تک۔ آل عمران۔
اور جب اللہ نے نبیوں سے یہ عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمارے پاس کوئی پیغمبروں آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمہیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹھہرایا) انھوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا۔ (خدا نے فرمایا) کہ تم (اس عہد و پیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ اس کے بعد جو اس عہد سے پھرجائیں وہی لوگ بدکردار ہیں۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : کہ یہ جو خدا نے فرمایا کہ تم اس عہد کے گواہ رہو اس کا مطلب ہے اپنی اپنی امتوں کے سامنے اس پر گواہ رہو اور ان کو بتاؤ اور خدا پیغمبروں پر اور ان کی امتوں پر گواہ ہے۔ پس اے محمد اس عہد کے بعد تمام امتوں میں سے جو کوئی بھی آپ سے انحراف کرے گا تو یہی لوگ فاسق ہوں گے۔ رواہ ابن جریر۔