42949- عن أبي رافع قال بينما النبي صلى الله عليه وسلم يمشي في بقيع الغرقد وأنا أمشى خلفه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا هديت، لا هديت - ثلاثا، قلت: يا رسول الله! مالي؟ قال: ليس إياك أريد، إنما أريد صاحب القبر، سئل عني فزعم أن لا يعرفني؛ فإذا هو قبر قد رش عليه الماء حين دفن صاحبه."طب، وأبو نعيم، ق في كتاب عذاب القبر".
٤٢٩٤٩۔۔ ابورافع سے روایت ہے فرمایا کہ ایک دفعہ نبی بقیع غرقد میں چل رہے تھے میں آپ کے پیچھے چل رہا تھا تو رسول اللہ نے فرمایا نہ تو نے ہدایت پائی اور نہ تیری رہنمائی کی گئی تین بار فرمایا، میں نے عرض کیا مجھے فرمایا تمہیں نہیں کہہ رہا، میری مراد قبر والے سی ہے اس ے میرے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے گمان کیا کہ وہ مجھے نہیں جانتاتو وہ ایسی قبر تھی جس میں میت دفن کرنے کے بعد اس پر پانی چھڑکا گیا تھا۔ طبرانی فی الکبیر ، ابونعیم، بیہقی فی کتاب عذاب القبر۔