42964- عن عائشة قالت: فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم بابا بينه وبين الناس، أو كشف سترا، فرأى أبا بكر والناس يصلون خلفه، فحمد الله على ما رأى من حسن حالهم رجاء أن يخلفه فيهم بالذي رأى فيهم، فقال: أيها الناس! أيما أحد من أمتي أصيب بمصيبة من بعدي فليتعز بمصيبتي عن المصيبة التي تصيبه من بعدي فإن أحدا من أمتي لم يصب كمصيبته بي."ع كر".
٤٢٩٦٤۔۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ اپنے اور لوگوں کے درمیان ایک دروازہ کھولایاپردہ اٹھایا آپ نے حضرت ابوبکر کو دیکھا اور لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے آپ نے ان کی اچھی حالت دیکھ کر اللہ کا شکرادا کیا اور یہ امید رکھی کہ آپ کے پیچھے بھی ان کی یہی حالت ہوگی پھر فرمایا لوگو میری امت میں سے میرے بعدجس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے توجوا سے مصیبت پہنچے اس میں میری (وفات کی) مصیبت کو یاد کرے کیونکہ میری وفات کی مصیبت جیسی مصیبت میرے کسی امتی کو نہیں پہنچی۔ ابن یعلی ابن عساکر۔