4318 - عن نجدة مولى عمر بن الخطاب "أن عمر كان في سوق المدينة يوما، فطأطأ رأسه، فأخذ شق تمرة، فمسحها من التراب، ثم مر أسود عليه قربة فمشى إليه عمر وقال اطرح هذه في فيك، فقال له أبو ذر ما هذه يا أمير المؤمنين؟ قال: هذه أثقل أو ذرة؟ قال لا بل هي أثقل من ذرة، قال فهمت ما أنزل الله في سورة النساء؟ {إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْراً عَظِيماً} كان بدء الأمر مثقال ذرة، وكان عاقبته أجرا عظيما". "كر".
4318: ۔۔ عمر بن خطاب (رض) کے غلام نجدہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) مدینہ کے بازار میں تھے۔ آپ (رض) نے سر جھکا کر ایک کھجور کا حصہ اٹھایا اور اس کو مٹی سے صاف کیا۔ پھر ایک حبشی کے مشکیزے کے قریب سے گذر ہوا تو اس کو فرمایا : یہ لے منہ میں ڈال لے۔ حضرت ابوذر (رض) (جو قریب ہی موجود تھے) بولے : امیر المومنین یہ کیا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : (کھجور کا) تھوڑا سا ٹکڑا ہے یا ذرہ ہے، حضرت ابو ذر (رض) نے عرض کیا : نہیں، یہ ذرہ سے زیادہ بڑا ٹکڑا ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں اس سے مجھے سورة نساء میں مذکور فرمان الہی خوب سمجھ آگیا :
ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ، و ان تک حسنۃ یضاعفہا ویوت من لدنہ اجرا عظیما۔
بےشک اللہ حق نہیں رکھتا کسی کا ایک ذرہ برابر اور اگر نیکی ہو تو اس کو دو گنا کردیتا ہے۔ اور دیتا ہے اپنے پاس سے بڑا ثواب۔
کہ نیکی ایک ذرہ بھر ہوتی ہے لیکن اللہ پاک اس کو اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر اجر عظیم بنا دیتا ہے۔