4327 - عن علي قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل من الأنصار بامرأة له، فقالت يا رسول الله: أن زوجها فلان ابن فلان الأنصاري، وإنه ضربها فأثر في وجهها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس له ذلك، فأنزل الله: {الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ} أي قوامون على النساء في الأدب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أردت أمرا، وأراد الله غيره". "ابن مردويه".
4327: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ایک انصاری شخص رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت کو لے کر آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کے فلاں ابن فلاں انصاری شوہر نے اس کو اس قدر مارا ہے کہ اس کا اثر اس کے چہرے میں نمایاں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو یہ حق نہیں پہنچتا۔ لیکن اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔
الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضہم علی بعض۔ النساء : 32
مرد عورتوں پر مسلط اور حاکم ہیں اس لیے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
یعنی مرد ادب سکھانے کے لیے عورتوں پر اپنا حق رکھتے ہیں۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے (مردوں کو عورتوں کے مارنے سے متعلق) ایک حکم کا ارادہ کیا تھا لیکن اللہ پاک نے کچھ اور ارادہ فرما لیا۔ رواہ ابن مردویہ۔