hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4334

.

كنز العمال

4334
Kanz al-Ummal
4334 - عن علي أنه سئل عن هذه الآية: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزاً أَوْ إِعْرَاضاً} فقال "هذا العلم ينتفع به، عن مثل هذا فاسألوا، ثم قال: هو الرجل عنده امرأتان، فتكون إحداهما قد عجزت أو تكون دميمة، فيريد فراقها، فتصالحه على أن يكون عندها ليلة وعند الأخرى ليالي، ولا يفارقها، فما طابت به نفسها فلا بأس به، فإن رجعت سوى بينهما". "ط ش وابن راهويه وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر والصابوني في المأتين ق".
4334: ۔۔ حضرت علی (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا :
و ان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا او اعراضا الخ۔ النسائی۔ 128 ۔
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تو میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ کسی قرار داد پر صلح کرلیں۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں یہ علم اسی لیے ہے کہ اسی سے نفع اٹھایا جائے۔ ایسے ہی سوالات کیا کرو۔ پھر فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ مثال کے طور پر ایک شخص کی دو بیویاں ہیں۔ ایک عورت بوڑھی ہوگئی ہے یا وہ بدصورت ہے اور شوہر اس کو الگ کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت مرد سے اس قرار داد پر صلح کرلے کہ وہ اس کے پاس ایک رات جبکہ دوسری کے پاس کئی (متعین) راتیں قیام کرے لیکن اس کو اپنے سے الگ نہ کرے۔ اگر عورت کو اس پر اطمینان ہو تو مرد کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ پھر اگر عورت اچھی حالت پر لوٹ آئے تو مرد پھر دونوں کے درمیان برابری کرے۔ (ابو ادود الطیالسی، ابن ابی شیبہ، ابن راہویہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، الصابونی فی الماتین، السنن للبیہقی)