hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4345

.

كنز العمال

4345
Kanz al-Ummal
4345- عن يونس بن محمد بن فضالة الظفري عن أبيه، قال: "وكان أبي من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم هو وجده أن النبي صلى الله عليه وسلم أتاهم في بني ظفر، فجلس على الصخرة التي في مسجد بني ظفر اليوم، ومعه عبد الله بن مسعود ومعاذ بن جبل وناس من أصحابه، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم قارئا فقرأ حتى بلغ هذه الآية: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيداً} فبكى رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى اضطرب لحياه وجنباه، فقال: أي رب أشهد على من أنا ظهريه فكيف بمن لم أره " "وابن أبي حاتم والحسن بن سفيان والبغوي طب وأبو نعيم في المعرفة وابن النجار" وحسن.
4345: ۔۔۔ یونس بن محمد بن فضالہ ظفری اپنے والد محمد بن فضالہ سے روایت کرتے ہیں، یونس کہتے ہیں میرے والد اور میرے دادا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے تھے۔ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے قبیلہ بنی ظفر میں تشریف لائے۔ بنی ظفر کی مسجد میں ایک چٹان پر بیٹھ گئے۔ آپ کے ساتھ عبداللہ بن مسعود، معاز بن جبل اور کچھ دوسرے اصحاب تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قاری کو حکم دیا کہیں سے قرآن پڑھیں۔ قاری جب اس آیت پر پہنچا :
فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید و جئنا بک علی ھؤلاء شہیدا۔ النسائی : 41 ۔
بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہر امت سے حال بتانے والے کو بلائیں گے اور آپ کو ہر حال بتانے کے لیے گواہ طلب کریں گے۔
یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رو پڑے حتی کہ آپ کی ریش مبارک اور آپ کا جسم اطہر بھی لرزنے لگا۔ آپ نے فرمایا : اے پروردگار ! میں جن لوگوں کے درمیان ہوں ان پر گواہی دیتا ہوں پھر جن کو میں نے دیکھا نہیں ان پر میں کیسے گواہی دوں گا۔ (ابن ابی حاتم، حسن بن سفیان، البغوی، الکبیر للطبرانی، المعرفۃ لابی نعیم، ابن النجار)
حدیث حسن ہے۔