4360- عن أبي هريرة قال: "قدم على النبي صلى الله عليه وسلم رجال من بني فزارة، قد ماتوا هزالا، فأمر بهم النبي صلى الله عليه وسلم إلى لقاحه فشربوا منها حتى صحوا، ثم غدوا إلى لقاحه فسرقوها، فطلبوا فأتى بهم النبي صلى الله عليهم وسلم فقطع أيديهم وأرجلهم، وسمل أعينهم، قال أبو هريرة: فنزلت هذه الآية {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَاداً} قال فترك النبي صلى الله عليه وسلم سمل الأعين بعد". "عب".
4360: ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : بنی فزارہ کے کچھ لوگ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جو لاغری اور کمزوری کی وجہ سے مرنے کے قریب ہو رہے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بیت المال کی اونٹنیوں کا دودھ پینے کا حکم فرمایا چنانچہ وہ اونٹنیوں کا دودھ پیتے رہے حتی کہ صحت یاب ہوگئے۔ لیکن پھر انھوں نے اونٹنیاں چرا لیں اور ان کو لے کر بھاگ گئے۔ ان کی تلاش میں لوگوں کو دوڑایا گیا۔ آخر وہ پکڑ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت پیش کردیے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے (مخالف سمتوں سے) ہاتھ پاؤں کٹوا کر ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھروا دی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے تب یہ آیت نازل ہوئی :
انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ۔۔۔ الخ۔ المائدہ : ۔۔ 33 ۔
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کردیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیے جائی یا ملک سے نکال دیے جائیں۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈاکوؤں کی آنکھوں میں گرم سلائی پھروانا بند کردی۔ رواہ عبدالرزاق۔