4364 - "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن الأسود بن هلال قال قال أبو بكر لأصحابه: "ما تقولون في هاتين الآيتين {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا} {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} ؟ قالوا ربنا الله ثم استقاموا فلم يذنبوا، ولم يلبسوا إيمانهم بظلم بخطيئة، قال: لقد حملتموهما على غير المحمل، قالوا: ربنا الله ثم استقاموا فلم يلتفتوا إلى إله غيره، وفي لفظ: فلم يرجعوا إلى عبادة الأوثان، ولم يلبسوا إيمانهم بشرك". "ابن راهويه وعبد بن حميد والحكيم وابن جرير وابن المنذر ك وأبو الشيخ وابن مردويه حل واللالكائي في السنة".
4364: (مسند صدیق اکبر (رض)) اسود بن ہلال سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : ان دو آیتوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟
ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا۔ حم السجدۃ۔ 30 ۔
اور جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے۔
والذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم۔ الانعام۔ 83 ۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا۔
لوگوں نے کہا : وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب مانا پھر اس پر پکے ہوگئے۔ یعنی کوئی گناہ نہ کیا اور دوسری آیت کا مطلب اور انھوں نے اپنے ایمان کو کسی گناہ کے ظلم کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔
حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم نے غیر محمل پر ان کو محمول کردیا (یعنی صحیح نہیں بتایا) صحیح مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کو اپنا رب مانا پھر کسی اور معبود بتوں وغیرہ کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور دوسری آیت کا مطلب اور انھوں نے اپنے ایمن کو شرک کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ (ابن راہویہ، عبد بن حمید، الحکیم، ابن جریر، ابن المنذر، مستدرک الحاکم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حلیۃ الاولیاء، اللالکائی فی السنۃ)