4375- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن مسلم بن يسار أن عمر بن الخطاب سئل عن هذه الآية: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} ؟ فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، سئل عنها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله خلق آدم فمسح على ظهره بيمينه، فاستخرج منه ذرية، فقال: خلقت هؤلاء للجنة، وبعمل أهل الجنة يعملون، ثم مسح على ظهره فاستخرج منه ذرية، فقال: خلقت هؤلاء للنار، وبعمل أهل النار يعملون"، فقال رجل: يا رسول الله ففيم العمل؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم
"إن الله إذا خلق العبد للجنة استعمله بعمل أهل الجنة حتى يموت على عمل من أعمال أهل الجنة، فيدخله به الجنة، وإذا خلق العبد للنار استعمله بعمل أهل النار، حتى يموت على عمل من أعمال أهل النار، فيدخله به النار". "مالك حم خ وعبد بن حميد خ في تاريخه د ت" وحسنه ن ابن جرير وابن أبي حاتم حب وابن منده في الرد على الجهمية وخشيش في الاستقامة والآجري في الشريعة وأبو الشيخ وابن مردويه ك واللالكائي في السنة ك ق في الأسماء والصفات ص"
4375: ۔۔ (مسند عمر (رض)) مسلم بن یسار (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا :
و اذ اخذ ربک من بنی آدم من ظھورہم ذریتہم۔۔ الاعراف : 172 ۔
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کروا لیا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں۔ (کہ تو ہمارے پروردگار ہے) تاکہ قیامت کے دن (یہ نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ جواب دیتے وئے سنا تھا کہ :
اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا پھر ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور ان کی اولاد نکل آئی۔ اللہ تعالیٰ فرمایا : میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ اہل جنت کے اعمال کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور ان کی اولاد نکل آئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے ان کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ جہنم ہی کے اعمال کریں گے۔
ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر عمل کی کیا ضرورت ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پاک نے جس بندے کو جنت کے لیے پیدا کیا اس کو اہل جنت کے اعمال میں لگا دیا (وہ عمل کرتا کرتا) ایک دن اہل جنت کے اعمال پر مرجائے گا۔ چنانچہ اللہ پاک اس کو جنت میں داخل کردے گا۔ اور اللہ پاک نے جس بندے کو جہنم کے لیے پیدا کیا، اس کو اہل جہنم کے اعمال میں غرق کردیا حتی کہ وہ اہل جہنم کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرجائے گا اور اللہ پاک اس کو جہنم برد کردیں گے ۔ (موطا امام مالک، مسند احمد، بخاری، عبد بن حمید، التاریخ للبخاری، ابو داود، ترمذی)
امام نسائی اس نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابن مندہ فی الرد علی الجہمیۃ، الاستقام للخشیش، الشریعۃ للآجری، ابو الشیخ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنۃ للالکائی، البیہقی فی الاسماء والصفات، السنن لسعید بن منصور)