439 – "المؤمنون تتكافأ دماؤهم ويسعى بذمتهم أدناهم لا يقتل مسلم بكافر ولا ذوعهد في عهده ولا يتوارث أهل ملتين ولا تنكح المرأة على عمتها ولا خالتها ولا صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس ولا تسافر المرأة ثلاث ليال إلا مع ذي محرم". (ق عن عائشة) .
٤٣٩۔۔ تمام مومنین کی جان ہم رتبہ ہی ہے اور ایک سی ہے ، ان میں سے کسی ادنی مسلمان کی بھی اٹھائی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر عاید ہوتی ہے اور آگاہ رہو کسی مومن کو کسی کافر کے عوض قتل نہ کیا جائے گا اور نہ کسی صاحب عہد ذمی شخص کو عہد کے ہوتے ہوئے قتل کیا جائے گا اور دومختلف ملتوں والے باہم ایک دوسرے کے وارث نہیں قرار دیے جاسکتے۔ اور کسی عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح کیا جاسکتا نہ اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح کیا جاسکتا ہے اور عصر کے بعد غروب شمس تک کوئی نماز نہیں ، اور کوئی عورت کسی ذی محرم کے بغیر تین رات سے زیادہ عرصہ کا سفر نہیں کرسکتی۔ السنن للبیہقی ، (رح) ، بروایت عائشہ۔