hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4393

.

كنز العمال

4393
Kanz al-Ummal
4393- عن الشعبي أن عمر بن الخطاب قال: "لقد أصبت في الإسلام هفوة ما أصبت مثلها قط، أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يصلي على عبد الله بن أبي فأخذت بثوبه، فقلت: والله ما أمرك الله بهذا لقد قال الله: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد خيرني ربي، فقال: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ} فقعد رسول الله صلى الله عليه وسلم على شفير القبر، فجعل الناس يقولون لابنه: ياحباب افعل كذا ياحباب افعل كذا، فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحباب اسم الشيطان أنت عبد الله. "ابن أبي حاتم".
4393: ۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا مجھ سے اسلام میں ایسی لغزش ہوئی جو کبھی نہ ہوئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی پر نماز پڑھنے کا ارادہ کیا۔ میں نے آپ کے کپڑے کو پکڑ لیا اور بولا اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ کو اس بات کا حکم نہیں دیا۔ اللہ پاک کا فرمان ہے :
استغفرلہم او لا تستغرلہم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے میرے رب نے اختیار دیا ہے فرمایا آپ استغفار کریں یا نہ کریں۔ پھر (نماز کے بعد) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قبر کے کنارے بیٹھ گئے۔ لوگ اس کے بیٹے کو کہہ رہے تھے : یا حباب ! یوں کر، یا حباب، یوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حباب شیطان کا نام ہے تو عبداللہ ہے۔ (ابن ابی حاتم)