43946- من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فهو مضاد الله في أمره، ومن أعان على خصومة بغير حق فهو مستظل في سخط الله حتى يترك، ومن قفا 1 مؤمنا أو مؤمنة حبسه الله في ردغة الخبال عصارة أهل النار، ومن مات وعليه دين أخذ لصاحبه من حسناته، لا دينار ثم ولا درهم، وركعتي الفجر حافظوا عليهما فإنهما من الفضائل. "حم - عن ابن عمر".
43946 جس شخص کی سفارش اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں سے کسی حد کے آڑے آئی گویا وہ شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنے والا ہے۔ جس شخص نے کسی ناحق جھگڑے میں مدد کی گویا وہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کے سائے تلے جگہ لے رہا ہے حتیٰ کہ وہ مدد چھوڑ دے۔ جس شخص نے کسی مومن مرد یا مومن عورت پر تہمت لگائی اللہ تعالیٰ اسے گناہ گار جہنمیوں کی پیپ اور خون کی کیچڑ میں ٹھہرائے گا۔ جو شخص مقروض ہو کر مرا اس کا حساب اس کی نیکیوں سے چکایا جائے گا حتیٰ کہ نہ کوئی دینار چھوڑا جائے گا اور نہ ہی کوئی درہم۔ فجر کی دو رکعتوں پر پابندی کرو چونکہ یہ رکعتیں فضائل والی ہیں۔ رواہ احمد عن ابن عمر