43973- من حالت شفاعته دون حد من حدود الله في فقد ضاد الله في أمره، ومن مات وعليه دين فليس بالدينار والدرهم ولكن بالحسنات والسيئات، ومن خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع، ومن قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال وليس بخارج. "د 1، طب، ك، هق - عن ابن عمر".
43973 میرے متعلق جس کی سفارش اللہ تعالیٰ کی کسی حد میں حائل ہوئی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی، جو شخص مرگیا اور اس کے ذمہ قرض تھا وہ قرض دینا رودرھم کی شکل میں نہیں بلکہ نیکیوں اور بدیوں کی شکل میں تھا اور جس شخص نے جان بوجھ کر باطل میں جھگڑا کیا وہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کا مستحق بن جاتا ہے اور جس شخص نے کسی مومن کے متعلق ناشائستہ بات کہی اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے خون اور پیپ کی کیچڑ میں ٹھہرائے گا تاوقتیکہ اسے اپنی کہی ہوئی بات سے چھٹکارا مل جائے جبکہ اسے چھٹکار انھیں مل سکتا۔
رواہ ابوداؤد و الطبرانی والحاکم والبیہقی عن ابن عمر