44010- يا معشر المهاجرين! خصال خمس إذا ابتليتم بهن وأعوذ بالله أن تدركوهن: لم تظهر الفاحشة في قوم قط حتى يعلنوا بها إلا فشا فيهم الطاعون والأوجاع التي لم تكن مضت في أسلافهم الذين مضوا، ولم ينقصوا المكيال والميزان إلا أخذوا بالسنين وشدة المؤنة وجور السلطان عليهم، ولم يمنعوا زكاة أموالهم إلا منعوا القطر من السماء، ولولا البهائم لم يمطروا، ولم ينقضوا عهد الله وعهد رسوله إلا سلط الله عليهم عدوهم من غيرهم فأخذوا بعض ما كان في أيديهم "وما لم يحكم أئمتهم بكتاب الله عز وجل ويتخيروا فيما أنزل الله إلا جعل الله بأسهم بينهم ". "هـ 1، ك - عن ابن عمر".
44010 اے مہاجرین کی جماعت ! جب تمہیں پانچ چیزوں میں مبتلا کردیا جائے گا، اور ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ ، جس بھی کسی قوم میں فحاشی کا دور دورہ ہوا ہے حتیٰ کہ ان پر لعنت برسنے لگی تو ان میں طاعون اور مصیبتیں ایسی عام ہوجاتی ہیں کہ ان کی مثال گزشتہ لوگوں میں نہیں ملتی، جب کوئی قوم ناپ تول اور ترازو میں کمی کرلی ہے تو وہ قحط سالی ، تنگی اور بادشاہ کے ظلم میں جکڑ دی جاتی ہے، جو قوم زکوۃ سے انکار کرتی ہے اس سے بارش روک لی جاتی ہے اگر بےزبان چوپایوں کی بات نہ ہوتی ان پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسایا جاتا اور جو قوم اللہ اور اللہ کے رسول کا عہد تورتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر دشمن کو مسلط کردیتے ہیں جو ان کا سب مال و اسباب لوٹ لیتے ہیں اور جس قوم کے حکام اللہ تعالیٰ سے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کے درمیان ان کی آپس کی جنگ مسلط کردیتے ہیں۔ رواہ ابن ماجہ والحاکم عن ابن عمر