44166- عن عمير بن عبد الملك قال: خطبنا علي بن أبي طالب على منبر الكوفة قال: كنت إن لم أسأل النبي صلى الله عليه وسلم ابتدأ بي وإن سألته عن الخير أنبأني، وإن حدثني عن ربه وجل قال: يقول الله عز وجل: وارتفاعي فوق عرشي! ما من أهل قرية ولا أهل بيت ولا رجل ببادية كانوا على ما كرهت من معصيتي ثم تحولوا عنها إلى ما أحببت من طاعتي إلا تحولت لهم عما يكرهون من عذابي إلى ما يحبون من رحمتي، وما من أهل قرية ولا أهل بيت ولا رجل ببادية كانوا على ما أحببت من طاعتي ثم تحولوا عنها إلى ما كرهت من معصيتي إلا تحولت لهم عما يحبون من رحمتي إلى ما يكرهون من غضبي. "ابن مردويه".
44166 عمیر بن عبدالملک کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے کوفہ کی مسجد کے منبر پر ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اگرچہ میں نے شروع شروع میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال نہیں کیا تھا اور اگر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھلائی کے متعلق سوال کرتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بتلا ہی دیتے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے رب تعالیٰ سے حدیث سنائی کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : عرش پر میرے بلند ہونے کی قسم ! جو بھی کسی بستی والے ہوتے ہیں، کوئی اہل خانہ ہوتے ہیں، یا کوئی بھی آدمی کسی جنگل میں ہوتا ہے یہ لوگ میری نافرمانی سے میری فرمان برداری کی طرف بائل ہوتے ہیں میں ان کی ناپسندیدہ چیز یعنی اپنے عذاب کو ان کی محبوب شے یعنی اپنی رحمت سے بدل دیتا ہوں، اور جو بھی بستی والے، کوئی اہل خانہ یا کوئی آدمی بھی میری محبوب شئے یعنی میری فرمان برداری کو میری ناپسندیدہ چیز یعنی نافرمانی سے بدلتے ہیں تو میں بھی ان کی پسندیدہ چیز یعنی اپنی رحمت کو ان کی ناپسندیدہ چیز یعنی اپنے غضب سے بدل دیتا ہوں۔ رواہ ابن مردویہ