44168- عن جابر بن عبد الله قال: دخلت على علي بن أبي طالب فقلت له: ما علامة المؤمن؟ قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! ما علامة المؤمن؟ قال: ستة أشياء حسن ولكن في ستة من الناس أحسن: العدل حسن ولكن في الأمراء أحسن، والسخاء حسن ولكن في الأغنياء أحسن، الورع حسن ولكن في العلماء أحسن، الصبر حسن ولكن في الفقراء أحسن، التوبة حسن ولكن في الشباب أحسن، الحياء حسن ولكن في النساء أحسن. "الديلمي".
44168 حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی (رض) کے پاس داخل ہوا میں نے پوچھا مومن کی علامت کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : مومن کی کیا علامت ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھ چیزیں اچھی ہیں اور یہی چھ چیزیں اگر چھ آدمیوں میں پائی جائیں تو بہت ہی اچھی ہیں۔ عدل اچھا ہے لیکن امراء میں عدل کا پایا جاتا بہت ہی اچھا ہے، سخاوت اچھی خصلت ہے لیکن مالداروں میں سخاوت کا ہونا بہت ہی اچھا ہے، تقویٰ اچھی چیز ہے لیکن علماء میں تقویٰ کا ہونا بہت ہی اچھا ہے، صبر اچھی عادت ہے لیکن فقراء میں بہت ہی اچھا ہے، توبہ اچھی چیز ہے لیکن نوجوانوں میں کیا ہی اچھی ہے، حیاء اچھی خصلت ہے لیکن عورتوں میں بہت ہی اچھی ہے۔ رواہ الدیلمی