44175- عن أنس قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على ناقته الجدعاء وليست بالعضباء فقال: أيها الناس! كأن الموت فيها على غيرنا كتب، وكأن الحق فيها على غيرنا وجب، وكأن الذي يشيع من الأموات سفر عما قليل إلينا راجعون، بيوتهم أجداثهم، وتأكل تراثهم كأنا مخلدون بعدهم، قد أمنا كل جائحة ونسينا كل موعظة، طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس، وأنفق من مال اكتسبه من حلال من غير معصية، ورحم أهل الذل والمسكنة، وخالط أهل الفقه والحكمة، واتبع السنة ولم يعدها إلى بدعة، فأنفق الفضل من ماله، وأمسك الفضل من قوله، طوبى لمن حسنت سريرته وطهرت خليقته. "كر".
44175 حضرت انس (رض) کی روایت ہی کی ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اونٹنی پر بیٹھ کر خطاب ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! گویا کہ موت ہمارے غیر پر لکھی جاچکی ہے گویا کہ حق ہمارے غیر پر واجب ہے گویا کہ موت سے سیر ہونے والے تھوڑے ہیں جو ہماری طرف لوٹیں گے ان کے گھر قبریں بن چکے ہیں ان کی میراث کھائی جارہی ہے گویا کہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں گے ہم ہر طرح کے حادثہ سے بےخوف ہیں ہر وعظ کو ہم نے بھلا دیا ہے خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جسے اس کے عیوب لوگوں کے عیوب سے غافل رکھیں اور وہ بغیر معصیت کے اپنے کمائے ہوئے حلال مال سے خرچ کرتا ہو اور مسکینوں فقیروں سے محبت کرتا ہو ۔ اہل فقہ اور اہل حکمت سے مل بیٹھتا ہو سنت پر عمل کرتا ہو اور بدعت کے قریب تک نہ جاتا ہو اپنا بچا ہوا مال خرچ کرتا ہو فضول بات نہ کرتا ہو خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کا باطن اچھا اور ظاہر پاکیزہ ہو۔