44194- عن أبي خالد الغساني قال: حدثني مشيخة من أهل الشام أدركوا عمر قالوا: لما استخلف عمر صعد المنبر فلما رأى الناس أسفل منه حمد الله؛ ثم كان أول كلام تكلم به بعد الثناء على الله وعلى رسوله: هون عليك فإن الأمور ... بكف لإله مقاديرها
فليس بآتيك منهيها ... ولا قاصر عنك مأمورها
"العسكري".
44194 ابو خالد غسانی کی روایت ہے کہ اہل شام کے چندمشائخ جنہوں نے حضرت عمر (رض) کو پایا ہے ان کا کہنا ہے کہ جب حضرت عمر (رض) کو خلیفہ بنایا گیا آپ (رض) منبر پر چڑھے جب لوگوں کو اپنے سے نیچے دیکھا اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی اس کے بعد آپ کا پہلا ۔ کلام یہ تھا۔
ھون علیک فسان الامبور
یکف الالیہ مققا دیرھا
فیشس بساتبک منھیا
ولا قاصر عنک ما مور ھا
ترجمہ : اپنے اوپر آسانی کرو چونکہ امور کی مقاد یر الہ کو روک دیتی ہیں ان امور میں سے منبی عنہ کو بجالانے والا بہت برا ہے اور مامور سے کوتاہی کرنے والا بھی بر آدمی ہے۔ رواہ العسکری