44205- عن جويبر عن الضحاك قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى الأشعري: أما بعد! فإن القوة في العمل أن لا تؤخروا عمل اليوم لغد، فإنكم إذا فعلتم ذلك تداركت عليكم الأعمال، فلا تدرون أيها تأخذون فأضعتم، فإن خيرتم بين أمرين أحدهما للدنيا والآخر للآخرة فاختاروا أمر الآخرة على أمر الدنيا، فإن الدنيا تفنى والآخرة تبقى، كونوا من الله على وجل، وتعلموا كتاب الله فإنه ينابيع العلم وربيع القلوب. "ش".
44205 جو یبرضحاک سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی طرف خط لکھا : امابعد ! عمل میں قوت ہے اس لیے آج کے عمل کو کل پر مت ٹالو چونکہ جب تم ایسا کرو گے تمہارے اعمال کا تدارک ہوتا رے گا اور تمہیں کسی عمل کو اختیار کرنے کی تمیز نہیں رہے گی اگر تمہیں دوکاموں میں اختیار دیا جائے ان میں سے ایک دنیاوی ہو اور دوسرا اخروی ہو تم اخروی کو دنیاوی پر ترجیح دو ۔ چونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور کتاب اللہ کو سیکھتے سیکھاتے رہو چونکہ کتاب اللہ علم کا سرچشمہ اور دلوں کی بہار ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ