44207- عن سعيد بن أبي بردة قال: كتب عمر إلى أبي موسى: أما بعد! فإن أسعد الرعاة من سعدت رعيته، وإن أشقى الرعاة من شقيت رعيته، وإياك أن ترتع فترتع عمالك! فيكون مثلك عند ذلك مثل بهيمة نظرت إلى خضرة من الأرض فرتعت فيها تبتغي بذلك السمن، وإنما حتفها في سمنها - والسلام عليك. "ش، حل".
44207 سعید بن ابی بردہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسیٰ (رض) کو خط لکھا : امابعد ! چرواہوں میں سب سے زیادہ خوش بخت وہ ہے جس کی بکریاں اچھی ہوں، اور سب سے زیادہ بدبخت وہ ہے جس کی بکریاں بری ہوں تم غلط چراگاہ سے بچو چونکہ تمہاری رعیت بھی غلط چرنے لگے گی اس کی مثال اس چوپائے کی سی ہے جو زمین پر سبزہ دیکھے اور وہ موٹا ہونے کے لیے اس میں جاکر چرنے لگے، حالانکہ اس کی موت موٹا ہونے میں ہے۔ والسلام علیکم۔ رواہ ابن ابی شیبۃ و ابونعیم فی الحلیۃ