44209- عن ابن الزبير قال: قال عمر بن الخطاب: إن لله عبادا يميتون الباطل بهجره، ويحيون الحد بذكره، رغبوا فرعبوا، ورهبوا فرهبوا، إن خافوا فلا يأمنون، أبصروا من اليقين ما لم يعاينوا، فخلطوه بما لم يزالوا، أخلقهم الخوف، فكانوا يهجرون بما ينقطع عنهم لما يبقي لهم، الحياة عليهم نعمة والموت لهم كرامة. فزوجوا الحور العين وأخدموا الولدان المخلدين. "حل".
44209 ابن زبیر کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ہیں جو باطل کو مٹا دیتے ہیں اور حق کو زندہ رکھتے ہیں، بھلائی کے کاموں میں رغبت رکھتے ہیں اور انھیں رغبت دی بھی جاتی ہے وہ ڈرتے بھی ہیں اور انھیں ڈر عطا بھی ہوا ہے وہ خوف خدا سے خالی نہیں رہتے جو انھوں نے دیکھا نہیں ۔ (آخرت) اس کا وہ یقین رکھتے ہیں، نہ ختم ہونے والی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں، انھیں خوف ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، انھوں نے آخرت کے لیے دنیا کو چھوڑ دیا ہے حیات ان کے لیے نعمت اور موت ان کے لیے کرامت ہے حورعین سے ان کی شادی کرائی جائے گی اور جنتی لڑکوں سے ان کی خدمت کروائی جائے گی۔ رواہ ابونعیم فی الحلیۃ