4423- عن أيفع الكلاعي قال: "لما قدم خراج العراق إلى عمر، خرج عمر ومولى له فجعل يعد الإبل، فإذا هو أكثر من ذلك فجعل عمر يقول: الحمد لله، وجعل مولاه يقول: هذا والله من فضل الله ورحمته، فقال عمر: كذبت ليس هذا هو الذي يقول الله: {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا} ". "ابن أبي حاتم طب".
4423: ۔۔ ایفع الکلاعی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں عراق کا خراج آیا تو حضرت عمر (رض) اپنے غلام کے ساتھ خود باہر نکلے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ جبکہ ان کا غلام کہنے لگا : اللہ کی قسم یہ اللہ کا فضل اور اسی کی رحمت سے ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو جھوٹ بولتا ہے یہ وہ نہیں ہے جس کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے :
قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا الخ۔ یونس : 58 ۔
کہہ دو کہ خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (یہ کتاب نازل ہوئی ہے) تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ ابن ابی حاتم الکبیر، للطبرانی۔
فائدہ : ۔۔ غلام کا مقصد تھا کہ اس آیت سے اللہ کا فضل اور رحمت مراد ہے جو عراق سے خراج (ٹیکس) میں آیا ہے۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) نے اس کی سختی سے تردید کی کہ یہ تو دنیاوی مال ہے اس سے بہتر تو اللہ کی کتاب اور اس کی ہدایت ہے جو درحقیقت خدا کا فضل اور اس کی مہربانی سے (یہ کتاب نازل ہوئی ہے) تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ ابن ابی حاتم۔ الکبیر للطبرانی۔
فائدہ : ۔۔ غلام کا مصد تھا کہ اس آیت سے اللہ کا فضل اور رحمت مراد ہے جو عراق سے خراج (ٹیکس) میں آیا ہے۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) نے اس کی سختی سے تردید کی کہ یہ تو دنیاوی مال ہے اس سے بہتر تو اللہ کی کتاب اور اس کی ہدایت ہے جو درحقیقت خدا کا فضل اور اس کی مہربانی سے کسی کو حاصل ہوتی ہے ورنہ یہ دنیا تو اس کے دوست اور دشمن سب ہی کو مل جاتی ہے۔