44228- عن أبي بكر بن عياش قال: لما خرج علي بن أبي طالب إلى أرض صفين مر بخراب المدائن فتمثل رجل من أصحابه فقال:
جرت الرياح على محل ديارهم ... فكأنما كانوا على ميعاد
وأرى النعيم وكل ما يلهى به ... يوما يصير إلى بلى ونفاد
فقال علي: لا تقل هكذا، ولكن قل كما قال الله تعالى: {كَمْ تَرَكُوا
مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْماً آخَرِينَ} إن هؤلاء القوم كانوا وارثين فأصبحوا مورثين وإن هؤلاء القوم استحلوا الحرم فحلت فيها النقم، فلا تستحلوا الحرم فتحل بكم النقم. "ابن أبي الدنيا، خط".
44228 ابوبکر بن عیاش کی روایت ہے کہ جب حضرت علی ابن ابی طالب سر زمین صفین کی طرف نکلے اور مدائن کے ویرانے کے پاس سے گزرے ایک آدمی نے مثال دیتے ہوئے یہ اشعار پڑھے۔
جرت الریاح علی محل دیارھم
فکا لما کانوا علی میعاد
ہوائیں ان کے ٹھکانوں پر چلیں گویا ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔
واری النعیم وکل ما یلھی بہ
یوما یصیر الی بلی ونفاد
میں ہر قسم کی عیش و عشرت کے سامان اور غافل کردینے والی چیزوں کو فناء اور برباد دیکھ رہا ہوں۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس طرح مت کہو بلکہ یوں کہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
کم ترکوا من جنات وعیون وزروع ومقام کریم ونعمۃ کانوا فیھا فاکھین کذالک و اور ثناھا قوما آخرین،
کتنے ہی باغات چشمے کھیتیاں اور عمدہ عمدہ جگہیں وہ چھوڑ گئے بہت ساری نعمتیں جن میں وہ عیش کررہے تھے اسی طرح ہم نے اس سامان تعیش کا دوسروں کو وارث بنادیا۔
یہ لوگ وارث تھے جبکہ انھوں نے دوسروں کو وارث بنادیا ان لوگوں نے حرام کو حلال بنادیا تھا، ان پر بھی تباہی آن پڑی لہٰذا تم حرام کو حلال مت بناؤ ورنہ تمہارے اوپر بھی تباہی آن پڑے گی۔
رواہ ابن ابی الدنیا والخطیب