44236- عن الحسن بن علي قال: من طلب الدنيا قعدت به، ومن زهد فيها لم يبال من أكلها، الراغب فيها عبد لمن يملكها، أدنى ما فيها يكفي، وكلها لا تغني، من اعتدل يومه فيها فهو مغرور، ومن كان يومه خيرا من غده فهو مغبون، ومن لم يتفقد النقصان عن نفسه فإنه في نقصان، ومن كان في نقصان فالموت خير له. "ابن النجار".
44236 حضرت حسن بن علی (رض) فرماتے ہیں : دنیا کا طلبگار دنیا ہی کو لے کر بیٹھ جاتا ہے ، جو شخص دنیا سے منہ موڑ لیتا ہے اسے کھانے کی کچھ پروا نہیں رہتی دنیا میں رغبت رکھنے والا غلام ہے اسے جو چاہتا ہے اپنی ملک بنالیتا ہے، دنیا کی حقیر چیز کفایت کردیتی ہے جب کہ ساری دنیا بےنیاز نہیں کرتی، جس کا دن معتدل ہو وہ مغرور ہے جس کا دن قبیح کی بنسبت بہتر ہو وہ دھوکا کھا جاتا ہے، جو اپنے نقصان کو نقصان نہیں سمجھتا وہ حقیقت میں نقصان میں رتا ہے جو شخص نقصان میں ہو اس کے لیے موت ہی بھلی ہے۔ رواہ ابن النجار