44279- عن حذيفة بن اليمان قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي توفاه الله فيه فقلت: يا رسول الله! كيف أصبحت بأبي أنت وأمي؟ فرد علي ما شاء الله ثم قال: يا حذيفة! ادن مني، فدنوت من تلقاء وجهه، قال: يا حذيفة! إنه من ختم الله له بصوم يوم أراد به الله أدخله الله الجنة، ومن أطعم جائعا أراد به الله تعالى أدخله الجنة، ومن كسا عاريا أراد به الله تعالى أدخله الله الجنة؛ قلت: يا رسول الله! أسر هذا الحديث أم أعلنه؟ قال: بل أعلنه. فهذا آخر شيء سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ع، كر، وفيه سنان بن هارون البرجمي، قال ابن معين: ليس حديثه بشيء".
44279 حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرض وفات میں تھے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ نے صبح کس حال میں کی ہے ؟ آپ (رض) نے مجھے مناسب جواب دیا اور پھر فرمایا : اے حذیفہ ! میرے قریب ہوجاؤ میں آپ کے روبرو قریب ہو کر بیٹھ گیا ارشاد فرمایا : جس شخص نے محض اللہ کے لیے روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کردیتے ہیں جس نے کسی ننگے بدن انسان کو کپڑا پہنایا اللہ اسے بھی جنت میں داخل کردیتے ہیں اور جس شخص نے کسی بھوکے کو خالص اللہ کے لیے کھانا کھلایا اللہ اسے بھی جنت میں داخل کردیتے ہیں۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس حدیث کو میں لوگوں سے چھپائے رکھوں یا ظاہر کردوں ؟ ارشاد فرمایا : بلکہ لوگوں سے ظاہر کردو۔ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ آخری حدیث سنی ہے۔ رواہ ابویعلی وابن عساکر
۔ کلام : حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں سنان بن ہارون برجمی ہے ابن معین اس کے متعلق فرماتے ہیں اس کی حدیثیں کسی درجے میں نہیں ہیں۔