4430- عن عبد الله بن معبد1 قال: "قام رجل إلى علي فقال: أخبرنا عن هذه الآية {مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا} إلى قوله {وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} ، قال: ويحك ذاك من يريد الدنيا لا يريد الآخرة". "ابن أبي حاتم".
4430: ۔۔ عبداللہ بن معبد سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت علی (رض) کے پاس کھڑا ہوا اور کہنے لگا : ہمیں اس آیت کے بارے میں بتائیے :
من کان یرید الحیاۃ الدنیا وزینتہا ۔۔ سے۔۔ و باطل ما کانو یعملون۔ تک۔ ھود : 15 ۔ 16 ۔
جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا ہی میں دیدیتے ہیں۔ اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور جو عمل انھوں نے دنیا میں کیے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہوا۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : افسوس تجھ پر اس سے وہ شخص مراد ہے جس کا مقصود صرف اور صرف دنیا ہو اور وہ آخرت کا بالکل خیال نہ رکھتا ہو۔ ابن ابی حاتم۔