hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 44321

.

كنز العمال

44321
Kanz al-Ummal
44308- عن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما جالسا بمجلسه فاطلع علي ابن أبي طالب وأبو عبيدة بن الجراح وعثمان وأبو بكر وعبد الرحمن بن عوف، فلما رآهم قد وقفوا عليه تبسم ضاحكا فقال: جئتموني تسألوني عن شيء إن شئتم أعلمكم وإن شئتم فاسألوني، قالوا: بل تخبرنا يا رسول الله! قال: جئتم تسألوني عن الصنائع لمن يحق، لا ينبغي صنيع إلا لذي حسب أو دين، وجئتم تسألوني عن جهاد الضعيفين: الحج والعمرة، وجئتم تسألوني عن جهاد المرأة، إن جهاد المرأة حسن التبعل لزوجها، وجئتم تسألوني عن الأرزاق من أين، أبى الله أن يرزق عبده إلا من حيث لا يعلم. "ك في تاريخه وقال: غريب المتن والإسناد، ابن النجار".
44308 حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی مجلس میں تشریف فرما تھے اتنے میں حضرت علی بن ابی طالب ابوعبیدہ بن جراح عثمان بن عفان ابوبکر عبدالرحمن بن عوف (رض) نمودار ہوئے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان حضرات صحابہ کرام (رض) کو اپنے پاس کھڑے دیکھا تو مسکرا کر فرمایا تم مجھ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہو، اگر چاہو تو میں ہی تمہیں بتادوں اگر چاہو تو مجھ سے سوال کرلو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : بلکہ آپ ہی بتادیں۔ ارشاد فرمایا : تم مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو کہ حسن سلوک کا حقدار کون ہے، سو حسن سلوک کا حقدار شریف اور دیندار آدمی ہے تم مجھ سے ضعیفوں کے جہاد کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو ضعیفوں کا جہاد حج اور عمرہ ہے تم مجھ سے عورت کے جہاد کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو عورت کا جہاد اپنے شوہر کے ساتھ حسن سلوک اور اس کی خدمت ہے تم مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو کہ رزق کہاں سے آتا ہے سو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں کا اسے علم ہی نہیں ہوتا۔ رواہ الحاکم فی تاریخہ وقال غریب المتن والا سناد ورواہ ابن النجار۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی 722 ۔