(44327 -) (مسند علي) عن الربيع بن أنس عن رجل عن علي أن قال : يا رسول الله ! ذهب أرباب الدثور بالاجور ! قال : يا علي ! أفلا أدلك على صدقة هي أفضل من صدقة كل مصدق في سائر الارض ، لا يدرك ذلك إلا من عمل مثلها ، أن نقول بعد صلاة الغداة عشر مرات : لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك ، وله الحمد ، وهو كل شئ قدير ، وبعد صلاة العصر مثل ذلك ، وتقول في دبر كل صلاة مكتوبة خمسا وعشرين مرة : سبحان الله والحمد الله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ملء السماوات والارض وما فيهن ، فذك خمسمائة تسبيحة تسبحهن كل يوم ، وهي في الميزان خمسة آلاف ، وهي الباقيات الصالحات ، وهي التي ليس لهن من المقول عدل ، الحمد لله ملء الميزان ، وسبحان الله نصف الميزان ولا إله إلا الله والله أكبر ملء السماوات وما فيهن (ابن مردويه).
44327” مسند علی (رض) “ ربیع بن انس ایک آدمی سے حضرت علی (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مالدار لوگ سب کا سب اجر وثواب لوٹ لے گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسا صدقہ نہ بتاؤں جو روئے زمین پر ہر صدقہ کرنے والے کے صدقہ سے افضل ہو، اس جیسا ثواب وہی پاسکتا ہے جو اس جیسا عمل کرے گا، وہ یہ کہ تم صبح کی نماز کے بعد دس مرتبہ یہ کلمات کہو لا الہ الا اللہ وحد ، لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شیء قدیر، عصر کی نماز کے بعد بھی یہی کلمات کہو اور ہر نماز کے بعد پچیس (25) مرتبہ یہ کلمات کہو، سبحان اللہ ولحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ملء السموات والارض وما فیھن، یوں اس طرح یہ ہر روز پانچ سو تسبیحات ہوجائیں، میزان میں یہ پانچ ہزار کے برابر ہوں گی یہ باقیات صالحات ہیں، اور یہ ایسے کلمات ہیں کہ ان کے برابر کوئی کلمہ نہیں ہے چنانچہ الحمد للہ میزان کو بھر دیتا ہے، سبحان اللہ نصف میزان بھر دیتا ہے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر آسمانوں اور ان کے بیچ کے مقام کو بھر دیتا ہے۔ رواہ ابن مردویہ