hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4436

.

كنز العمال

4436
Kanz al-Ummal
4436- عن علي أنه خطب فقال: "عشيرة الرجل للرجل خير من الرجل لعشيرته، إنه إن كف يده عنهم كف يدا واحدة وكفوا عنه أيدي كثيرة مع مودتهم وحفاظهم ونصرتهم، حتى لربما غضب الرجل للرجل وما يعرفه إلا بحسبه، وسأتلوا عليكم بذلك آيات من كتاب الله، فتلا هذه الآية: {لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} قال علي: والركن الشديد العشيرة، فلم تكن للوط عشيرة فو الذي لا إله إلا هو، ما بعث الله نبيا قط بعد لوط إلا ثروة من قومه وتلا هذه الآية في شعيب: {وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفاً} قال: كان مكفوفا فنسبوه إلى الضعف، {وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ} قال علي: فو الذي لا إله غيره، ما هابوا جلال ربهم إلا العشيرة. "أبو الشيخ"
4436: ۔ حضرت علی (رض) نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :
آدمی کا قبیلہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے جبکہ اس قدر آدمی اپنے قبیلے کے لیے سود مند نہیں۔ کیونکہ آدمی اگر قبیلے کی حفاظت کرے گا جبکہ قبیلہ آدمی کی حفاظت کرے گا تو قبیلے کے تمام افراد اس کی حفاظت کریں گے۔ اور اپنی محبت، حفاظت اور مدد کے ساتھ اس کو پیش آئیں گے۔ حتی کہ بسا اوقات کوئی کسی آدمی پر غصہ ہوتا ہے تو اس کو کچھ نہیں گردانتا بلکہ اس کے قبیلہ سے رعب رکھتا ہے۔ چنانچہ میں تم کو اس بات کی تائید میں کتاب اللہ کی آیت پیش کرتا ہوں۔ پھر آپ (رض) نے سورة ھود کی یہ آیت تلاوت فرمائی :
ال لو ان لی بکم قو او آوی الی رکن شدید۔ ھود : 80 ۔
(لوط نے) کہا : اے کاش ! مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط (جماعت کے) قلعہ میں پناہ پکڑ سکتا۔
پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : رکن شدید (جس کی خواہش حضرت لوط (علیہ السلام) نے کی اس) سے مراد قبیلہ ہے۔ چونکہ لوط (علیہ السلام) کا ان کی قوم میں کوئی قبیلہ نہ تھا۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! اللہ نے لوط (علیہ السلام) کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کے مضبوط قبیلے میں۔ پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت کی جو شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے کہا تھا۔
وانا لنراک فینا ضعیفا ولولا رھطک لرجمناک ۔ ھود : 91
اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے خاندان والے نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کردیتے۔
پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : قسم معبود حق کی : وہ لوگ اپنے رب کی عظمت سے نہیں ڈرے مگر شعیب (علیہ السلام) کے خاندان سے ڈر گئے۔ رواہ ابو الشیخ۔