44388- "مسند علي" عن عقبة بن أبي الصهباء قال: لما ضرب ابن ملجم عليا دخل عليه الحسن وهو باك، فقال له: ما يبكيك يا بني؟ قال: وما لي لا أبكي وأنت في أول يوم من الآخرة وآخر يوم من الدنيا، فقال يا بني! احفظ أربعا وأربعا لا يضرك ما عملت معهن، قال: وما هن يا أبت؟ قال إن أغنى الغنى العقل، وأكبر الفقر الحمق، وأوحش الوحشة العجب، وأكرم الكرم حسن الخلق؛ قال: قلت يا أبت! هذه الأربع، فأعلمني الأربع الأخرى، قال: إياك ومصادقة الأحمق! فإنه يريد أن ينفعك فيضرك، وإياك ومصادقة الكذاب! فإنه يقرب عليك البعيد ويبعد عليك القريب وإياك ومصادقة البخيل! فإنه يبعد عنك أحوج ما تكون إليه، وإياك ومصادقة الفاجر! فإنه يبيعك بالتافه. "كر".
44388” مسند علی (رض) “ عقبہ بن ابی الصہباء کہتے ہیں جب حضرت علی (رض) کو ابن ملجم نے زخمی کیا تو آپ (رض) کے پاس حضرت حسن (رض) آئے اور وہ رو رہے تھے : حضرت علی (رض) نے ان سے فرمایا : اے بیٹے تم کیوں رو رہے ہو ؟ عرض کیا : میں کیوں نہ روؤں جبکہ آپ آخرت کے پہلے دن کی طرف رواں دواں ہیں اور دنیا کے آخری دن کو چھوڑے جارہے ہیں فرمایا : اے بیٹے ! چار اور چار چیزوں کی حفاظت کرو ان کے ہوتے ہوئے تمہیں عمل ضرر نہیں پہنچائے گا عرض کیا : اے ابا جان وہ کیا ہیں ؟ فرمایا : سب سے بڑی مالداری عقلمندی ہے بےوقوفی سب سے بڑا فقر ہے عجب (خودسرائی) سب سے زیادہ وحشت زدہ چیز ہے۔ سب سے بڑی شرافت حسن اخلاق ہے۔ میں نے عرض کیا یہ چار چیزیں ہوگئیں دوسری چار کونسی ہیں ؟ فرمایا : بیوقوف کی حاجت کرنے سے بچو چونکہ وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے گا اور تمہیں نقصان پہنچادے گا ۔ کذاب سے بھی بچو چونکہ وہ تمہیں فضول شے کے بدلے میں بیچ ڈالے گا۔ رواہ ابن عساکر