4484- "ومن مسند عبد الرحمن بن عبد الله الثقفي المعروف بابن أم الحكم" قال ابن عساكر: قيل إن له صحبة عن عبد الرحمن بن عبد الله ابن أم الحكم الثقفي قال: "بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض سكك المدينة إذ عرض له اليهود فقالوا يا محمد: ما الروح؟ وبيده عسيب نخل، فاعتمد عليها ورفع رأسه إلى السماء، ثم قال: {وَيَسْأَلونَكَ عَنِ الرُّوحِ} إلى قوله {قَلِيلاً} قال: فسمع الله فمقتهم". "كر".
4484: ۔۔ (مسند عبدالرحمن بن عبداللہ ثقفی، معروف بہ ابن ام الحکم) ابن عساکر (رح) فرماتے ہیں ان کو (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ) صحبت میسر ہوئی تھی۔
عبدالرحمن بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی کسی گلی میں تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ سے کچھ یہودی ملے اور کہنے لگے : اے محمد ! روح کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں کھجور کی چھڑی تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سہارا دے کر کھڑے ہوگئے اور چہرہ اقدس آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ پھر فرمایا (فرمان الہی ہے):
ویسئلونک عن الروح سے آپ نے قلیلا تک تلاوت فرمائی۔ الاسراء : 75 ۔
اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ وہ میرے پروردگار کی شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے۔
عبدالرحمن (رض) فرماتے ہیں اللہ پاک نے ان کو یہ حکم سنا کر ناراض اور شرمندہ کردیا۔