4486- عن أبي جعفر محمد بن علي قال: "لم كتمتم بسم الله الرحمن الرحيم؟ فنعم الاسم والله كتموا، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل منزله اجتمعت عليه قريش فيجهر ببسم الله الرحمن الرحيم، ويرفع صوته بها، فتولي قريش فرارا، فأنزل الله: {وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَى أَدْبَارِهِمْ نُفُوراً} ". "ابن النجار".
4486: ۔۔ ابو جعفر محمد (رح) بن علی (رح) فرماتے ہیں تم لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو چھپا کر آہستہ سے کیوں پڑھتے ہو، اللہ کا نام کس قدر اچھا نام ہے اور اس کو تم پست آواز میں کہتے ہو۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب گھر میں داخل ہوتے اور قریش آپ کے پاس جمع ہوتے تو بلند آواز کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے۔ اور قریش پیٹھ دے کر بھاگ جاتے تھے۔ تب اللہ پاک نے یہ فرمان نازل فرمایا :
و اذا ذکرت ربک فی القرآن وحدہ ولو علی ادبارہم نفورا۔ الاسراء : 46 ۔
اور جب قرآن میں اپنے پروردگار ر یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے ہیں اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔ رواہ ابن النجار۔