hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4492

.

كنز العمال

4492
Kanz al-Ummal
4492- عن أبي الورقاء قال: "قلت لعلي بن أبي طالب: ذو القرنين ما كان قرناه؟ قال لعلك تحسب بأن قرنيه ذهب أو فضة؟ كان نبيا بعثه الله إلى ناس، فدعاهم إلى الله تعالى، فقام رجل فضرب قرنه الايسر، فمات ثم بعثه الله فأحياه، ثم بعثه إلى ناس، فقام رجل فضرب قرنه الأيمن فمات فسماه الله ذا القرنين". "أبو الشيخ في العظمة".
4492: ۔۔ ابو الورقاء (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : ذو القرنین کی یہ قرنین کیا چیز تھے ؟ (قرن کے معنی سینگ کے آتے ہیں قرنین دو سینگوں والا) تو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : تمہارا خیال ہوگا کہ وہ سونے یا چاندی کے سینگ تھے۔ درحقیقت اللہ نے ان کو ایک قوم کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر آپ کے بائیں جانب سر پر چوٹ ماری جس سے آپ جاں بحق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کو پھر زندہ کردیا اور لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا : پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر آپ کے بائیں جانب سر پر چوٹ ماری جس سے آپ جاں بحق ہوگئے۔ اللہ نے آپ کو پھر زندہ کردیا اور لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا : پھر ایک شخص نے کھرے ہو کر آپ کے سر پر دائیں طرف چوٹ ماری جس سے آپ جاں بحق ہوگئے اسی وجہ سے اللہ نے آپ کو ذوالقرنین فرمایا۔ ابو الشیخ فی العظمۃ۔
فائدہ : ۔۔ قرن کے معنی سینگ کے علاوہ اور بہت سے آتے ہیں جن میں ایک معنی سر کی ایک جانب بھی ہے جہاں جانوروں کو سینگ نکلتے ہیں چنانچہ دونوں جانبوں کو قرنین کہا گیا ہے اور ذو کا معنی والا ہے اس طرح آپ کا نام ذوالقرنین پڑگیا۔