45073- إنه عرضت علي الجنة بما فيها من الزهرة والنضرة، فتناولت قطفا من عنبها لآتيكم به، ولو أخذته لأكل منه من بين السماء والأرض، لا ينقصونه، فحيل بيني وبينه؛ وعرضت علي النار، فلما وجدت حر شعاعها تأخرت، وأكثر ما رأيت فيها النساء اللاتي إن أوتمن أفشين، وإن سألن أحفين، وإن أعطين لم يشكرن، ورأيت فيها عمرو بن لحى يجر قصبه 1 في النار، وأشبه من رأيت به معبد بن أكثم، فقال معبد: يا رسول الله! أيخشى علي من شبهه؟ قال: لا، أنت مؤمن وهو كافر، وهو أول من جمع العرب على الأصنام. "حم، ك، ص - من طريق الطفيل بن أبي بن كعب عن أبيه".
45073 مجھے جنت دکھائی گئی بمعہ اس کی رونقوں اور شادابیوں کے میں نے جنت کے انگوروں کا ایک خوشہ توڑنا چاہا تاکہ وہ میں تمہارے پاس لے کر آؤں ، اگر میں اسے لے آتا آسمان و زمین کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی وہ کم نہ ہونے پاتا لیکن میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی، مجھے دوزخ بھی دکھائی گئی جب میں نے دوزخ کے شعلوں کی تپش پائی میں پیچھے ہٹ گیا میں نے دوزخ میں عورتوں کو اکثریت میں دیکھا ہے کہ جن کے پاس راز بطور امانت رکھاجائے افساں کردیتی ہیں اگر سوال کرتی ہیں تو لپٹ جاتی ہیں اگر انھیں عطا کیا جائے تو شکر نہیں کرتی ہیں میں نے دوزخ میں عمرو بن لحی دیکھا چنانچہ اس کی انتڑیاں گھسیٹی جارہی تھیں معبد بن اکثم اس کے زیادہ مشابہ ہے معبدہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی مشابہت سے خوفزدہ ہوجائے ؟ فرمایا : نہیں : تو مومن ہے وہ کافر تھا، عمرو بن لجی وہی ہے جس نے عربوں کو سب سے پہلے بتوں کی پوجا پر جمع کیا۔ رواہ احمد بن حنبل والحاکم و سعید بن المنصور من طریق الطیفل بن ابی بن کعب عن ابیہ