hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4510

.

كنز العمال

4510
Kanz al-Ummal
4510 - عن علي في قوله: {فَقُولا لَهُ قَوْلاً لَيِّناً} قال: "كنه"1 "ابن أبي حاتم".
4510: ۔۔ فقولا لہ قولا لینا۔ طہ : 44
پس اس سے نرمی سے بات کرنا۔
حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : نرمی سے بات کرنے سے مراد تھا کہ اس کا نام نہ لینا بلکہ اس کو کنیت سے پکارنا۔ ابن ابی حاتم۔
فائدہ : ۔۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبری عطا فرمائی تو فرمایا فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے نرمی سے بات کرنا۔ اس کی تفسیر میں کلبی (رح)، عکرمہ (رض) ، ابن عباس (رض) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں یعنی اس کا نام لینے کے بجائے اس کو کنیت سے پکارنا۔ چونکہ بڑی ہستی کے لیے کنیت کے ساتھ پکارنایہ عرب کا عام طریقہ تھا۔ اسی وجہ سے مدینہ کے یہودی اسلام نہ لانے کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا ابا القاسم کہہ کر پکارتے تھے چونکہ آپ کا رسول ہونا وہ تسلیم نہ کرتے تھے کہ یا رسول اللہ ! کہتے۔
اسی وجہ سے معلوم ہوا کہ کسی صاحب مرتبہ کافر کو بطور تعظیم کنیت سے پکارنا جائز ہے۔
فرعون کی کنیت ہیں، ابو العباس، ابو الولید اور ابو مرہ کے کئی اقوال ہیں۔